عید بازاروں میں رونقیں نہیں ہیں

muneeb نے Monday، 29 September 2008 کو شائع کيا.

عید بازاروں میں رونقیں نہیں ہیں

عید شاپنگ
’حقیقی خریدار بازاروں میں کم ہیں‘
پاکستان میں غذائی اشیاء، خوردنی تیل، ایندھن، گیس، بجلی اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا اضافے کے بعد مہنگائی نے اب عید بازاروں کی رونقوں کو بھی گہن لگا دیا ہے۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ حقیقی خریدار بازاروں میں کم ہیں اور ان کی سیل پرمنفی اثر پڑا ہے جبکہ ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ مجموعی معاشی صورتحال گذشتہ کچھ عرصے سے زبوں حالی کا شکار ہے اور یہ اسی کا اثر ہے کہ عید کی خریداری میں جوش و خروش نہیں ہے۔

کراچی شہر کے ہر بازار میں عید سے چند روز قبل تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوا کرتی تھی اور خاص طور پر صدر بوہری بازار میں تو جیسے انسانوں کا سیلاب امڈ آیا ہو۔ خریدار اپنی پسند کے کپڑے، زیور، جوتے وغیرہ خرید کر عید کی تیاری مکمل کیا کرتے تھے اور دکاندار اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پورے سال کا منافع کمانے کی کوشش میں ہوتے۔

تاہم اس سال صورتحال اس کے برعکس ہے اور کئی دکانوں میں تو سیل لگا دی گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خریداروں کی کس قدر کمی ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سےکاروبار پر منفی اثر پڑا ہے۔

خلیل اعوان کا کہنا ہے کہ لوگوں کی قوتِ خرید اتنی تیزی سے نہیں بڑھی جس تیزی سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بازاروں میں ایک تو رش کم ہے اور اوپر سے حقیقی خریدار تو اور بھی کم ہیں ایسے میں کاروبار پر تو برا اثر پڑنا ہی ہے۔ ان کے بقول وہ لوگ جو چار چار سوٹ خریدا کرتے تھے اب ایک یا دو پر ہی اکتفا کررہے ہیں۔

عید شاپنگ
عید کی خریداری میں جوش و خروش نہیں ہے

عید کی خریداری کے سلسلے میں آئے خریداروں میں ایک فرزانہ خاتون بھی تھیں جو اپنے بارہ سالہ بیٹے کے ساتھ عید کے کپڑوں کی خریداری کررہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی بہت ہوگئی ہے، جب بھی بازار جاؤ تو سوچ سے زیادہ ہی قیمتیں سننے کو ملتیں ہیں، میرے بیٹے کی جو پینٹ پچھلے سال دو سو میں مل جاتی تھی اب تین سو روپے میں بھی نہیں مل رہی ہے۔

ایک اور خریدار جنید آفتاب نے بتایا کہ وہ تین گھنٹے سے بازار میں گھوم رہے ہیں اور اب تک فیصلہ نہیں کرپائے ہیں کہ انہیں کیا خریدنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی نے تو جیسے چیزوں کو آگ لگادی ہے، حکومت کو چاہیے کو وہ مہنگائی کو کم کرنے کے لیے قابلِ عمل اور مؤثر اقدامات کرے۔

عید کی خریداری میں سب سے زیادہ توجہ کپڑوں کو حاصل ہوتی ہے اور خریداروں میں کمی کی وجہ سے صرف دکانداروں ہی کا نقصان نہیں ہورہا بلکہ اس صنعت سے وابستہ تمام لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ گارمنٹ کی صنعت سے وابستہ صعنت کار انیس اسماعیل کا کہنا ہے کہ بجلی، گیس، سفری اخراجات، دھاگہ، لیبر ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے تو لامحالہ کپڑے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے جبکہ اس برس کاروبار میں بھی کمی رہی ہے۔

ماہر معاشیات ظفر موتی کہتے ہیں کہ عام طور پر دکاندار عید کی خریداری پر شرح منافع بڑھا دیا کرتے تھے تاکہ وہ پورے سال کے اہداف حاصل کرسکیں لیکن اب قوتِ خرید کم ہونے کی وجہ سے منافع کی شرح میں بھی کمی کی گئی ہے، اور اس قسم کے حالات معیشت میں گراوٹ کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں لوگوں کے پاس چیزیں خریدنے کی قوت نہیں رہتی۔

ماہرین کے خیال میں معیشت میں تمام شعبے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور جب معیشت بحران کا شکار ہو تو اس کا اثر ہر شعبے پر ہوتا ہے لہذٰا اگر معیشت کی بحالی کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا بلکہ معاشی صورتحال مزید دگرگوں ہوجائے گی۔

ٹھنڈ لگنے کا سبب تنہائی

muneeb نے Monday، 29 September 2008 کو شائع کيا.

ٹھنڈ لگنے کا سبب تنہائی

تحقیق سے خود کو تنہا محسوس کرنے والے لوگوں کو مدد مل سکتی ہے خاص طور پر سردی کے موسم میں
تنہائی اور سردی کی شکایت لوگ عموماً روز ہی کرتے ہیں لیکن ماہرین نفسیات نے پتہ لگایا ہے کہ تنہائی لوگوں میں سردی کی سبب بنتی ہے۔

ٹورینٹو یونیورسٹی کے ماہرین کی ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ کسی محفل میں بھی خود کو تنہا محسوں کرنے والوں کو کمرے میں ان لوگوں کے مقابلے زیادہ سردی محسوں ہوتی ہے جو محفل میں سب سے گھل مل کر رہتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق جو لوگ خود کو تنہا محسوس کر رہے ہوتے ہیں وہ جوس یا کوئی پھل لینے کے بجائے چائے یا گرم سوپ پینا پسند کرتے ہیں۔

برطانیہ کے ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے ان لوگوں کو مدد مل سکتی ہے جو خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں خاص طور پر سردی کے موسم میں۔

پہلے جائزے میں 65 طلبا کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ایک گروپ نے ان واقعات کو یاد کیا جن میں انہیں کسی محفل میں تنہاکر دیا گیایا وہ خود کو تنہا محسوس کر رہے تھے جبکہ دوسرے گروپ کو وہ واقعات یاد کرنے کے لیے کہا گیا جن میں کسی محفل یا کلب میں ان کا خیر مقدم کیا گیا۔

اس کے بعد تحقیق کاروں نے ان سے کمرے کا درجہ حرارت کا اندازہ لگانے کے لیے کہا۔جن لوگوں کو اپنے تنہائی کے لمحات یاد آ رہے تھے ان کو کمرے کا درجہ حرارت کم محسوس ہوا۔

اس کے بعد ان لوگوں کو ایک کمپیوٹر گیم دیا گیا جس میں کچھ لوگوں کو بال کو اچھالنے کا موقع کئی بار دیا گیا اور کچھ کو گیند سے کھیلنے کا زیادہ موقع فراہم نہیں کیا گیا۔

گیم کے بعد ان لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ سیب یا سافٹ ڈرنکس پینے کی خواہش محسوس کر رہے ہیں یا پھر یا پھر گرم گرم کافی کے خواہش مند ہیں جن لوگوں کو گیند سے زیادہ کھیلنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا ان میں زیادہ تر نے گرم سوپ یا کافی کی خواہش ظاہر کی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے گرم چیزوں کی خواہش ظاہر کی وہ نفسیاتی طور پر تنہائی کے سبب ایسا محسوس کر رہے تھے۔

تم اپنی کرنی کر گزرو

muneeb نے Tuesday، 23 September 2008 کو شائع کيا.

سنیچر کو ہونے والے آصف زرداری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب سن کر بہت عرصے کے بعد لگ رہا تھا کہ شاید چیزیں اچھے کی طرف جا رہی ہیں۔ نہ کسی نے ‘گو بابا گو’ اور ‘گو مشرف گو’ کے نعرے لگائے، نہ کسی مذہبی یا سیاسی جماعت نے بائیکاٹ کیا اور نہ ہی حزبِ اختلاف کی طرف سے کیچڑ اچھالا گیا۔

لگا کہ سب اچھا ہے۔

لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کیچڑ نہیں معصوم لاشیں اچھالیں گیئں۔ تقریر کے چند ہی گھنٹوں بعد اسلام آباد میں وہ ہوا جس کا وہم و گمان بھی نہیں تھا۔ چھ سو سے زیادہ کلو گرام بارود سے بھرا ٹرک اسلام آباد کے سب سے مصروف ہوٹل میریئٹ سے ٹکرا گیا اور درجنوں لوگوں کی جانیں لینے اور سینکڑوں کو زخمی کرنے کے علاوہ میریئٹ کو مکمل اور اس کے آس پاس کی عمارتوں کو کافی حد تک تباہ کر گیا۔

وفاقی حکومت کے داخلی سکیورٹی کے مشیر رحمان ملک نے درست کہا کہ یہ پاکستان کا نائن الیون تھا۔

دھماکے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ حملہ کرنے والے نے بہت ہی سوچ سمجھ کر صدر کے خطاب کے روز، رمضان میں اور افطار کے وقت حملہ کیا۔ اگرچہ حملہ آوور کا اس جگہ پہنچنا یقیناً ایک ‘سکیورٹی لیپس’ یا سکیورٹی میں کوتاہی ہے لیکن پھر بھی افطار کے وقت ویسے ہی ملک بھر میں ہر کاروبارِ زندگی سست پڑ جاتا ہے۔ اور حملہ آوور کو یہ وقت سب سے زیادہ سوٹ کیا۔

ہو سکتا ہے کہ اس کا نشانے پر کوئی اور ہائی پروفائل ٹارگٹ ہو۔ آدھ کلو میٹر پر ہی تو وزیرِ اعظم ہاؤس اور پارلیمان ہے۔ ادھر زیادہ سکیورٹی ہونے کی وجہ سے آپشن دو استعمال کیا گیا ہو۔ یا ہو سکتا ہے کہ ٹارگٹ میریئٹ ہی ہو۔ شہر کی ‘جان’ کو تباہ کرنے سے شاید جان نکالنے کا مقصد پورا ہو جائے۔ ‘سمبلز’ تباہ کرنے سے بھی تو جنونیوں کو تسکین ملتی ہے۔ چاہے ان ‘سمبلز’ میں جیتے جاگتے لوگ ہوں اور چاہے وہ سینکڑوں اور ہزاروں میں ہوں۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر بھی تو ایک سمبل ہی تھا۔ ہزاروں لوگ پلک جھپکتے موت کی نیند سلا دیے گئے۔ پر اس کا کیا ہوا جنگ امریکہ سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل گئی۔ اب بھی اگر کسی کا مقصد دہشت گردی کے خلاف حکومت کے عزم کو ختم کرنا ہے تو شاید یہ ہی وہ جگہ ہے جہاں حملہ آوور یا اس کی پلاننگ کرنے والے ناکام ہوئے ہیں۔

ایسا بالکل نہیں ہوا۔

صدر پاکستان آصف علی زرداری نے دھماکے کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خودکش حملے کے باوجود دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ انہوں نے قوم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے درد کو طاقت بنائے اور مل کر انتہا پسندی اور شدت پسندی کا مقابلہ کر کے اس کینسر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔

یقیناً کینسر کو جڑ سے اکھاڑنا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔

مجھے آصف زرداری کے پارلیمان سے خطاب اور بعد میں اسی رات ٹی وی پر قوم سے خطاب کے بعد سابق صدر جنرل مشرف کا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب یاد آ رہا ہے۔ صدر مشرف نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان کو ‘اہم فیصلے کرنا ہیں جن کے دور رس نتائج ہوں گے، اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو آنے والی نسلوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور خدا پاکستان کے آج کے عوام کو معاف نہیں کرے گا۔’

صدر صاحب ہم سب خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

اب کیا ہو گا۔ خدشہ ہے کہ جنگ بڑھے گی اور یہی شاید حملہ کرنا والے چاہتے ہیں کہ جنگ بڑھے۔ ان کا انجام تو جو ہو گا سو ہو گا لیکن معصوم عوام کی آہیں اور سسکیاں شاید انہیں قبروں میں بھی چین نہ لینے دیں۔

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ لوگ صرف اور صرف دہشت گرد ہیں۔ ان کے لیے عسکریت پسند، مزاحمت کار یا اس طرح کا کوئی اور لفظ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ صرف دہشت گرد ہیں اور ان سے اس طرح نمٹنا چاہیئے جس طرح کسی دہشت گرد سے نمٹا جاتا ہے۔ اگر انہیں اپنی اور معصوم جانوں کی فکر نہیں تو پھر ہم ان کی فکر کیوں کریں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ باجوڑ یا وزیرستان کے سیدھی سادھے یا سوات کے امن پسند لوگ نہیں ہیں۔ یہ دہشت گردی کا بین الاقوامی نیٹ ورک ہے اور اسے روکے بغیر دنیا میں امن نہیں آئے گا۔

دہشت گردو تم ہمیں مار سکتے ہو پر توڑ نہیں سکتے۔

میں عالمی امن کے دن یعنی اکیس ستمبر کو اس سے زیادہ غصے کا اظہار نہیں کر سکتا۔

تم اپنی گرنی کر گزرو۔۔۔

جنرل پرویز مشرف کے زمانے

muneeb نے Tuesday، 23 September 2008 کو شائع کيا.

جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں ایکشن تو ہوتے رہتے تھے اور امریکی میزائل اور گولے بھی پاکستان کی حدود میں گرتے رہتے تھے لیکن زمینی فوج اس جمہوری دور میں پہلی مرتبہ ملکی حدود میں داخل ہوئی ہے جس میں امریکی کمانڈو ایکشن کے دوران معصوم جانیں ضائع ہوئیں جن میں عورتیں اور بچے تھے۔

لیفٹیننٹ جنرل معین الدین حیدر

عید کارڈ کی جگہ ایس ایم ایس اور ای کارڈز نے لے لی

muneeb نے Monday، 22 September 2008 کو شائع کيا.

عید کارڈ کی جگہ ایس ایم ایس اور ای کارڈز نے لے لی

رمضان اور عیدین پر اپنے پیاروں کو مبارک باد دینے کیلئے عید کارڈ کی جگہ موبائل ایس ایم ایس اور ای کارڈ نے لے لی ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہونے کے باوجود عید کارڈوں کی دکانوں پر خریداروں کی کوئی دلچسپی دکھائی دیتی ہے نہ اب عید کارڈز کے سٹال۔ ہمیں اب عید بازاروں اور بک سٹالز اور بڑی شاپنگ مارکیٹس یا پلازوں میں لگے نظر آتے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں عید کے موقع پر رشتہ داروں ،عزیزو اقارب اور دوستوں کو عید کی مبارک دینے اور ان کو یاد کرنے کیلئے عید کارڈ ارسال کئے جاتے تھے مگر گزشتہ چند برسوںسے کمپیوٹر اور موبائل فونز کی ترقی اور بھر مار سے عام آدمی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کے باعث اب عید سمیت دیگر تہواروں پر ای میلز ای کارڈ اور ایس ایم ایس کے ذریعے مبارک بادیں بھجوائی جاتی ہیں جس کے باعث عید کارڈ فروخت کرنےوالے سٹالز پر گاہکوں کا رش ختم ہوتا جا رہا ہے۔ عید کارڈز چھاپنے والے پبلشرز کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے اب ہمارے پاس آرڈرز نہ ہونے کے برابر ہیں اور اب صرف چھوٹے شہروں سے ہی ہمیں آرڈر مل رہے ہیں جہاں عام آدمی کی کمپیوٹر تک رسائی نہیں یا وہ موبائل فون رکھنے کی سکت نہیں رکھتا یا اسے اس کا استعمال نہیں آتا۔

’امریکیوں پر پاکستانی فائرنگ‘

muneeb نے Monday، 22 September 2008 کو شائع کيا.

’امریکیوں پر پاکستانی فائرنگ‘
شمالی جنوبی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیاروں کی پروازیں ایک معمول بن گئی ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں اہلکاروں کے مطابق افغان سرحد کے قریب پاکستانی سکیورٹی فوسز نے سرحد کی خلاف ورزی پر دو امریکی ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ کی ہے فائرنگ کے بعد امریکی ہیلی کاپٹر کسی کارروائی کے بغیر واپس لوٹ گئے۔

شمالی وزیرستان کی پولیٹکل انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات گیارہ بجے کے بعد میرانشاہ سے تقریباً اسی کلومیٹر دورمغرب کی جانب علاقہ لواڑہ منڈی میں دو امریکی ہیلی کاپٹر پاکستان کے علاقے میں داخل ہوئے تھے۔

مقامی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق لواڑہ منڈی میں موجود پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ہیلی کاپیٹروں کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد امریکی ہیلی کاپٹر بغیر کسی کارروائی کے واپس لوٹ گئے۔

فوج کے ایک ترجمان میجر مراد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعہ کے متعلق ان کے پاس کوئی معلومات نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پیر کی صبح درہ ادم خیل کے علاقے زرغن خیل میں ایک فوجی قافلہ پر بارودی سرنگ کا حملہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے بعد سکیورٹی فورسز نے درہ آدم خیل کے مختلف علاقوں میں کارروائی کے دوران کئی مشکوک لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

شمالی جنوبی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیاروں کی پروازیں ایک معمول بن گئی ہیں۔ اور کئی بار امریکی جاسوس طیاروں سے میزائل حملے بھی ہوئے ہیں جس کے نتیجہ میں اب تک اسی سے زیادہ لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔

پاکستانی حدود کے اندر امریکی حملوں کی مخالفت کے پش نظر امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین ایڈمرل مائیک مولن نے حال ی میں ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے ملک کی سول اور فوجی قیادت کو پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرنے کا یقین دلایا تھا۔

پاکستانی وزیراعظم نے افغانستان میں تعینات امریکی اور اتحادی افواج سے پاکستانی سرحدوں اور خومختاری کا احترام کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔

یوسف رضا گیلانی نے امریکی اور پاکستانی افواج کے درمیان معلومات کے تبادلے کے نظام اور پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے درمیان قائم سہ فریقی کمیشن کو مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

گجرانوالہ سے دو اماموں سمیت تین افراد گرفتار

muneeb نے Monday، 22 September 2008 کو شائع کيا.

گجرانوالہ سے دو اماموں سمیت تین افراد گرفتار

اتوار کو تحقیقاتی ٹیمیں سارا دن جائے حادثہ پر موجود رہیں

میریئٹ ہوٹل میں دھماکے کے بعد گوجرانوالہ میں پولیس اور خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے مساجد کے دو امام اور فرقہ وارانہ وارداتوں میں پولیس کو مطلوب ایک شخص جمشید مرسلین کو حراست میں لے لیا ہے۔

گوجرانوالہ کے تھانہ پیپلز کالونی کے سٹیشن ہاؤس آفیسر انسپکٹر عامر وارثی نے بی بی سی نے اس کارروائی کی تصدیق تو کی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کے تھانے کی فورس نے اس میں حصہ نہیں لیا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سے آئی ٹیم کو جمشید مرسلین کی تلاش تھی اور چونکہ وہ قاری ارشد کے مہمان تھے اس لیےشاید قاری ارشد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ قاری ارشد کچھ عرصہ قبل کراچی سےگوجرانوالہ منتقل ہوئےتھے۔


صدر 22ستمبر کو نیویارک پہنچیں گے،23ستمبر کو اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرینگے

admin نے Monday، 22 September 2008 کو شائع کيا.

صدر 22ستمبر کو نیویارک پہنچیں گے،23ستمبر کو اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرینگے

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) صدر آصف علی زرداری 23ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔ ذرائع کے مطابق صدر زرداری دورہ امریکا کے سلسلے میں 22ستمبر کو نیویارک پہنچیں گے جہاں ان کی اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ اقوام متحدہ کے 23ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں صدر آصف علی زرداری اپنے وفد کے ساتھ پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

علامہ اقبال اوپن یونیو رسٹی نے سمسٹر خزاں 2008ء کے داخلہ فارم جمع کرانے کی تاریخ میں 22ستمبر تک توسیع کردی

admin نے Monday، 22 September 2008 کو شائع کيا.

علامہ اقبال اوپن یونیو رسٹی نے سمسٹر خزاں 2008ء کے داخلہ فارم جمع کرانے کی تاریخ میں 22ستمبر تک توسیع کردی

میریٹ‌دھماکہ میں بارود فوجی نوعیت کا استعمال ہوا

admin نے Sunday، 21 September 2008 کو شائع کيا.

اس مرتبہ حملہ آوروں نے دھماکہ خیر مواد کے علاوہ مارٹر بم، آرٹلری راونڈز اور پہلی مرتبہ الومینم پاوڈر بھی استعمال کیا گیا

مشیر داخلہ رحمان ملک نے اسلام آباد میں میریئٹ ہوٹل پر ہوئے خودکش حملے کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا واقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں چھ سو کلوگرام فوجی نوعیت کا دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا ہے۔

اسلام آباد میں خودکش حملے کے اکیس گھنٹوں بعد اس کی ابتدائی تحقیقات کے نتائج سے صحافیوں کو آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ترپن جبکہ دو سو چھاسٹھ زخمی بتائے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں دو امریکیوں سمیت چار غیر ملکی شامل ہیں۔ چیک سفیر اور ان کی ویت نام سے تعلق رکھنے والی دوست بھی ہلاک ہونے والے غیر ملکیوں میں شامل ہیں۔

ہسپتال میں زیر علاج گیارہ زخمی غیرملکیوں میں سے چار امریکی، چار سعودی باشندوں کے علاوہ برطانیہ، لبنان اور افغانستان کے ایک ایک شہری شامل ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کہ آیا ہوٹل میں امریکی فوجی موجود تھے جو ہدف ہوسکتے ہیں تو مشیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ایک یا دو امریکیوں کے لیئے ایک ہزار پاکستانی ہلاک کرنا کوئی انصاف نہیں۔

رحمان ملک نے بتایا کہ ابتدائی اندازے کے مطابق ریت بجری لیجانے والے ٹرک کے ذریعے کیئے جانے والے اس حملے میں ماضی کے برعکس اعلی معیار کا آر ڈی ایکس اور ٹی این ٹی استعمال کیا گیا ہے۔ اس مرتبہ حملہ آوروں نے دھماکہ خیز مواد کے علاوہ مارٹر بم، آرٹلری راؤنڈز اور پہلی مرتبہ الومینیئم پاوڈر بھی استعمال کیا جس کی وجہ سے آگ پر بعد میں قابو پانا مشکل ہو رہا تھا۔

صحافیوں کو اس دھماکے کے آخری لمحات کی ویڈیو فلم بھی دکھائی گئی۔ تقریباً سات بجکر پچاس منٹ پر ایک بھرا ٹرک آکر ہوٹل کے مین گیٹ پر لگی رکاوٹ سے ٹکرایا جس کے چند منٹ بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی اور پھر زوردار دھماکہ ہوا۔


جملہ حقوق بحق اردوڈریمز نیوز محفوظ ہيں.